اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراقی شہر موصل کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے عراقی فورسز کی مشترکہ کاروائی تاحال جاری ہے مگر مغربی ذرائع ابلاغ کی دلچسپی موصل کی آزادی نہیں بلکہ موصل سے داعش کے انخلاء اور اس انخلاء کا مغربی ممالک کی سکیورٹی پر مرتب ہونے والے اثرات سے ہے اور وہ اس لیے کہ مغربی ممالک نے کئی بار دہشت گردی کی کڑواہٹ کو چکھا ہے جب ان ممالک میں داعش کودہشت گردانہ کاروائیاں کرنے میں کامیابی ہوئی۔ دراصل مغرب ایک گہری پریشانی میں مبتلا ہو چکا ہے کہ غیر ملکی اور بالخصوص مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے داعشیوں کا کیا ہو گا جو موصل سے فرار ہوں گے۔
مغربی ممالک کے پاس ان مغربی دہشت گردوں کے حوالے واضح معلومات موجود نہیں اور حقیقت میں مغربی سکیورٹی ادارے بیشتر مغربی دہشت گردوں کے حوالے سے کچھ نہیں جانتے جس کا واضح ثبوت ان دہشت گردوں کا مغربی ممالک میں پناہ گزینوں کے بھیس میں داخل ہونا ہے۔
مغربی ممالک اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ واپس لوٹنے و الے دہشت گرد اپنے ممالک میں دہشت گردی کی کارروائیاں نہ کر بیٹھیں جو کہ بہت خطرناک ثابت ہو گا۔ علاوہ ازیں داعش سے منسلک عرب اور اسلامی ممالک کے باشندے بھی اپنے اپنے ممالک کو لوٹ آئیں گے اور ان دہشت گردوں کا اپنے ممالک میں مقیم غیر ملکیوں کو نشانہ بنانے کے قوی امکانات ہیں۔
ذرائع کے مطابق داعش کے علاقوں سے واپس آنے والے دہشت گردوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اور اب جب عراق میں داعش کےآخری ٹھکانے(موصل) کی داعش سے آزادی قریب ہو گئی ہے تو لوٹنے والے دہشت گردوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو گیا ہے۔
مغرب کے نزدیک موصل کی آزادی کے بعد دہشت گردوں کو ایک اور موقعہ مل سکتا ہے کہ وہ ایک بار پھر منظم ہو جائیں مگر اس بار مغربی ممالک میں اپنی کارروائیاں شروع کریں، لہٰذا بعید از امکان نہیں کہ مغربی ممالک ایک خفیہ منصوبے کی تحت موصل کی آزادی میں رکاوٹیں حائل کریں تاکہ دہشت گرد وہیں رہیں یا کم ازکم شام منتقل کیے جائیں۔ درحقیقت مغرب یہ چاہتا ہے کہ داعش کومغربی ایشیا ءمیں زندہ رکھا جائے تاکہ مغربی دہشت گرد اپنے ممالک کو واپس نہ آئیں جس کا صرف یہی مطلب ہے کہ مغربی ایشیاء اور وہاں کے لوگوں کو مغرب کی سکیورٹی کے لیے قربان کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲